سپر مائنڈ پاور ٹیلی پیتھی (حصہ دوم)

 سپر مائنڈ پاور ٹیلی پیتھی (حصہ دوم)

سپر مائنڈ پاور ٹیلی پیتھی (حصہ دوم)

 ٹیلی پیتھی کی ایکسرسائز مکمل کرنے اور اس کا ماسٹر بننے کے بعد ہم جو پیغام اپنے سپر مائنڈ سے دوسرے شخص کو بھیجتے ہیں..... وہ بھی پہلے اس شخص کے لاشعوری ذہن میں ہی  جاتا ہے پھر لاشعور وہ کام شعور سے کرواتا ہے۔

عام حالات میں اگر آپ کسی کو کوئی کام کرنے کو کہیں تو اگلے بندے کی مرضی ہے ۔۔۔وہ کال کرے یا نہ کرے ۔۔۔۔

لیکن جب آپ ٹیلی پیتھی سے اپنے سپر مائنڈ سے پیغام بھیجتے ہیں کہ ابھی کال کرو... تو وہ پیغام سیدھا اس شخص کے لاشعور میں جاتا ہے...  اب اس کی مرضی نہیں چلے گی کیونکہ ٹیلی پیتھی پاور سے آپ  اس کے لاشعور کو کنٹرول کر کے رہے ہیں۔

اب وہ شخص مکمل طور پر ٹیلی پیتھی کی قوت سے آپ کے کنٹرول میں ہے ..... آپ اسے جو کام کرنے کا کہیں گے وہ اس پر اسی وقت عمل کرے گا۔
 
ٹیلی پیتھی (مائنڈ پاور) کی مخصوص ایکسرسائز  سے لاشعور کی طاقت بڑھ جاتی ہے.... پھر اس قوت سے ایسے ناقابل یقین کام اور مظاہرے کیے جا سکتے ہیں ..... جو عام عوام کی سمجھ سے بالا ہوتے ہیں .... یہی وجہ ہے لوگ اپنی کم علمی کی وجہ سے ٹیلی پیتھی پاور کو کچھ اور ہی سمجھتے ہیں۔

ٹیلی پیتھی ماسٹر بننے کے بعد انسان اپنی مقناطیسی شخصیت اور اپنے سپر جینئس مائنڈ سے کامیابی کی بلندیوں کو چھو سکتاہے....

اگر آپ اپنے ذہن کی پاورز کو ٹیلی پیتھی کی مخصوص ایکسرسائز سے ایکٹیو کر لیتے ہیں تو آپ پوری دنیا میں جب اور جہاں چاہیں کسی بھی شخص سے ذہنی رابطہ کر کے نا صرف اس کے خیالات پڑھ سکتے ہیں بلکہ اپنی بات منوا سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں پاکستان میں واحد ہمارا ادارہ ورلڈ انسٹیٹیوٹ فار جینئس مائنڈ ہے .... جو دو سالہ ٹیلی پیتھی سپر مائنڈ پاور کورس کروا رہا ہے... جس میں ذہن کی سپر پاورز کو ایکٹیو کر کے ان سے کام لینے کی ٹریننگ دیتا ہے۔

پاکستان میں سرکاری سطح پرعلم ٹیلی پیتھی کو تھوڑی سی سرپرستی مل جاتی تو آج پاکستان موجودہ پاکستان سے بہتر ہوتا۔۔۔۔۔ٹیلی پیتھی کے بارے میں لوگوں کی اکثریت ’’دیوتا‘‘ ناول پڑھ کر ہی آگاہ ہوئی ۔ معروف ناول نگار محی الدین نواب (مرحوم)نے 1977 میں سسپنس ڈائجسٹ میں ’’دیوتا‘‘کے نام سے ایک عظیم داستان کا آغاز کیا،جس میں فرہاد علی تیمور کو ٹیلی پیتھی کا ماسٹربنا کر پیش کیا گیا ۔اسی مناسبت سے سسپنس ڈائجسٹ جنوری 2010کے شمارہ میں ـہم نے ٹیلی پیتھی کے موضوع پر اپنی کتاب’’ذہن کی پراسرار قوتیں‘‘ کا اشتہار دیا ،تاکہ دیوتا پڑھنے والوں کو اس علم کی حقیقی روح کا علم ہو سکے۔اب یہ اتفاق تھا کہ جنوری کا شمارہ ’’دیوتا‘‘ کی آخری قسط کے ساتھ جلوہ افروز ہوا۔
33سال تک قارئین کوٹیلی پیتھی سے آگاہی دینے والی دنیا کی کسی بھی زبان کی طویل ترین داستان کااختتام اس وقت ہوا ،جب اسی موضوع پر ٹیلی پیتھی سیکھنے کے لیے معلومات سے مزین کتاب کا اشتہار شائع ہوا۔یقینا قدرت کی طرف سے قارئین کے لیے اشارہ تھا کہ محی الدین نواب نے اپنا فرض نبھا دیا ہے اب آپ کے سامنے اس کتاب کی صورت ایک وسیع میدان موجودہے جو اس علم پر عبور حاصل کرنا چاہے وہ اس کتاب کو خرید کر میدانِ عمل میں آسکتا ہے۔

اب تو یہ سلسلہ مزید آگے بڑھ گیا ہے اب ہمارا ادارہ 
ورلڈ انسٹیٹیوٹ فار جینئس مائنڈ آن لائن سپر مائنڈ پاور ٹیلی پیتھی کورس کروا رہا ہے ، پہلے کی نسبت اب  لوگوں میں کافی شعور بیدار ہو چکا ہے.... اب ضرورت اس امر کی ہے کہ قدرت نے انسان کو جو ذہن جیسی خوبصورت نعمت سے نوازا ہے اس کو استعمال میں لایا جائے۔اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اس ذہن کو کیسے اور کتنا استعمال کرتا ہے اور مسخر شدہ کائنات کو اپنے لیے اور دوسروں کے لیے کتنا نفع بخش بناتا ہے۔

👈 اگر آپ اپنے ذہن کی سپر پاور کو ایکٹیو کر کے سپر جینئس مائنڈ بن کر اپنی پاورز سے خود کو کامیاب ترین شخصیت اور امت مسلمہ کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تواپنے ذہن کی سپر پاورز کو ہماری نگرانی میں ایکٹیو کریں.آن لائن کلاسز کے لیے داخلہ جاری ہیں۔
ٹرینر
غلام مصطفےٰ مہر
چیف ایگزیکٹیو
ورلڈ انسٹیٹیوٹ فار جینئس مائنڈ