سپر مائنڈ پاور ٹیلی پیتھی (حصہ اول)

 سپر مائنڈ پاور ٹیلی پیتھی (حصہ اول)
سپر مائنڈ پاور

آج تک ہم نے زندگی میں جتنے بھی چھوٹے بڑے اہم غیر اہم جتنے بھی کام کیے باتیں کی جو کچھ بھی کیا وہ سب لاشعوری ذہن میں محفوظ ہیں۔

آپ جو سوچتے ہیں اور جو سوچ اس میں فیڈ کرتے ہیں.... آپ کا لاشعور ان چیزوں کو اپنی طرف کھینچتا ہےاسے بالکل علم نہیں کہ حقیقت کیا  ہے؟.....نقلی کیا ہے؟
اس لیے آپ جو سوچتے ہیں وہ اسے حقیقت ( Real) مان لیتا ہے

آپ اس کی طاقت دیکھیں... کہ آپ لاشعور میں جو چیز کو فیڈ کر دیتے ہیں ...چاہے وہ حقیقت میں ہو یا نہ ہو وہ اس پر ہی یقین کرتا ہے وہ اسے حاصل کرنے کے لیے لگ جاتا ہے۔نتیجتا آپ اس مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
 
وہ جو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں....وہ سوچ آپ کے لیے وقتی طور پر خیال ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ کے لاشعور کے لیے وہی اصل ہی ہوتا ہے...  وہ اس سوچ کو ہی اسے اصل مان لیتا ہے اور پھر اصلی زندگی میں وہی ہونے لگتا ہےجو آپ نے اس میں فیڈ کیا ہوتا ہے
اس لیے ماہرین کہتے ہیں کہ اپنے سوچنے کی قوت کو مثبت استعمال کریں کیونکہ جیسا سوچیں گے آپ کا مائنڈ آپ کو ویسا ہی بنا دے گا۔

اگر کسی کو ہپناٹائز کرکے نیند کی حالت میں لے جائیں تو اسکا لاشعور کھل جاتا ہے تو وہ بندہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ یہاں تک بتا سکے کہ جب اسکی عمر 4سال تھی تو اس نے فلاں دن کتنے بجے کیاکام کیا تھا .... کیا کھایا تھا.... آج سے دس سال پہلے وہ 7 بجے کیا کر رہا تھا وہ سب بتانے لگتا ہے اسکی وجہ کیونکہ اسکا لاشعور کھل چکا ہے اور لاشعور کو سب یاد ہے۔

ہم جو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھتے سنتے ہے وہ سب لاشعور میں محفوظ ہوتا رہتا ہےاورشعور بھی جو کام کرتا ہے وہ لاشعور کے مطابق ہی کام کرتا ہے۔
 لاشعور کو جو کام کرنے کا حکم دیا جائے یہ کرے گا...وہ اسے اچھائی برائی یہ نہیں سمجھتا وہ کہے پر عمل کرتا ہے۔
جو یاداشت چلی جاتی ہے وہ بھی اسی طرح کہ انسان کا لاشعور وہ چیزیں بھلا دیتا ہے یا وہ اتنا کمزور ہو جاتا ہے کہ ان یاداشت کو شعورتک پہنچا نہیں سکتا تو اس طرح انسان کی یاداشت چلی جاتی ہے اور اسے کچھ یادنہیں رہتا یعنی جو چیزیں لاشعور سے ڈیلیٹ ہوگی وہی شعور سے خودبخود ہو جائے گیں۔
 
یاد رکھیں .... چاہے لاشعور نیند کی حالت میں کھلتا اور کام کرتا ہے مگر حالت بیداری میں بھی یہ شعور کے پس پردہ یہ کام کر رہا ہوتا ہے۔۔

 ........ مثال کے طور پر آپ کا ایک دوست ہے جو آپ سے 5 سال بعد مل رہا ہے جیسے ہی آپ اس سے ملے.... تھوڑا سا سوچنے کے بعد آپ کو یاد آجاتا ہے...کہ یہ کون ہے؟

 ایسا کیوں ہوا؟

کیا آپ اس دوست کو یاد رکھےہوئے تھے؟

نہیں..... آپ اسے بھول گئے تھے.... جیسے ہی وہ سامنے آیا ...آپ لاشعوری ذہن نے فوراً اس سے متلعقہ یاداشت شعور کو بھیجی اورآپ نے اسے پہچان لیا۔
اگر آپ کا لاشعوری ذہن اس سے متعلقہ معلومات شعور میں نہ بھیجے تو یہ نا ممکن ہے آپ اس دوست کو پہچان جائیں ۔
ہمارا شعور جو کام کر رہا ہے وہ بھی درحقیقت لاشعور ہی اس سے کروا رہا ہوتا ہے .....شعور .... لاشعور کے کنٹرول میں ہے
 جو چیز ، جو بات لاشعور میں ڈالی جائے گی اور لاشعور کو حکم دیا جائے کہ یہ کام کرو لاشعور وہ کام ضرور شعور سے کروائے گا۔
لاشعور کی اس پاور کو ایکٹیو کرنے کے لیے ماہرین نے کچھ مخصوص ایکسرسائز مرتب کی ہیں
ان مشقوں کا بنیادی مقصد اس صنوبری غدود پی نیل گلینڈ (Pineal Gland) کے عمل کو تیز کرنا ہے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ دماغ کے اندر عین پیشانی کے درمیان واقع ہے اس غدود کو روحانی اصطلاح میں تیسری آنکھ یعنی چھٹی حس کہتے ہیں۔
 ارتکاز توجہ کے لیے دی گئی مشقوں کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ کسی چیز کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے کے وقت کوشش کی جائے کہ صرف مشہود ( جس چیز کو آپ دیکھ رہے ہیں) کا خیال ذہن میں رہے۔
 ان مشقوں کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے خیالات و تصورات کا دریا جو بلا روک ٹوک بہتا چلا جا رہا ہے اس پر کنٹرول کیا جائے۔ آپ اپنے خیالات کے اس تیز رو دریا پر ایک مضبوط بند قائم کر دیجیے اور پھر اپنے خیال کی قوت کا کرشمہ دیکھیے۔ اس صورت میں آپ یقینا لاشعور اور شعور برتر کے درمیان تعلق پیدا کر لیں گے۔ جس روز شعور برتر کا دفتر کھل گیا اسی دن آپ کا شمار ٹیلی پیتھی کے ماہروں میں ہونے لگے گا۔
ہمارے ہاں خصوصاََ پاکستان میں جیلی پیروں نے ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی کی مشقیں کی ہوتی ہیں اور وہ اس کا استعمال کرتے ہیں لوگ سمجھتے ہیں پیر صاحب بڑے کرنی والے ہیں اور اس کے علاوہ ان کے پاس کئی شعبدے بازیاں ہوتی ہیں،جن کے ذیعے وہ عوام کو لوٹتے ہیں۔
یاد رکھیں: آپ اپنے سپر مائنڈ کی قوت کو ایکٹیو کرسکتے ہیں ....   ٹیلی پیتی کی ایکسر سائز اس کا بہترین ذریعہ ہیں ۔ٹیلی پیتھی جیسے عظیم علم کے ذریعے سے اپنی سپر پاورز کوپروان  چڑھائیں، آپ انھیں اچھے مقصد کے لیے بروئے کار لا کر انسانیت کی خدمت کیجیے۔ ان صلاحیتوں کا مثبت استعمال ہی آپ کو وہ حقیقی سکون اور خوشی دے گا جس کے لیے لوگ دن رات محنت کرتے ہیں لیکن انھیں وہ سکون اور خوشی زندگی بھر نصیب نہیں ہوتی۔