اہداف کیسے حاصل کریں

اہداف کیسے حاصل کریں

اہداف کیسے حاصل کریں
اس بات کا انحصار آپ کے ایک دن یا چوبیس گھنٹوں پر منحصر ہے اگر آپ ہر دن میں ہر گھنٹے اور منٹ کا استعمال بہترین انداز میں کرتے ہیں‘ کوئی لمحہ ضائع نہیں جانے دیتے اور ہر ضروری کام کو ٹالنے کی بجائے بروقت نمٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو پھر ایک سال گزرنے کے بعد آپ اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیں گے۔

جس طرح ایک مکان میں ایک اینٹ ایک اکائی کی حیثیت رکھتی ہے‘ اسی طرح ایک سال میں ہر دن کی اپنی اہمیت ہے۔
جس طرح آپ مکان بناتے وقت اچھی اینٹ کا استعمال کرتے ہیں‘ ہر اینٹ کو مناسب انداز میں لگاتے ہیں اور ایک دن انہی اینٹوں پر مکان کھڑا کر لیتے ہیں‘ اسی طرح اگر آپ ہر دن کو اچھی طرح مینج کریں گے‘ اپنی تعلیم‘ صحت‘ نوکری‘ کاروبار‘ مذہب‘ فیملی اور اپنی ذات پر برابر توجہ دیں گے تو نہ صرف آپ درست ٹریک پر چل پڑیں گے بلکہ زندگی کے من پسند شعبوں میں بے پناہ ترقی بھی کر لیں گے۔

ٹیکنالوجی انسان کیلئے بنی ہے‘ انسان ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا وغیرہ کیلئے نہیں بنا۔ یہ بات ہمیں خود سمجھنا اور بچوں کو بھی سمجھانا پڑے گی۔
 اس ٹیکنالوجی کا مثبت  استعمال کر کے اپنے اہداف جلد اور موثر طریقے سے حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔
 ہم اس ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال نہیں کر رہے۔۔۔ جدید ممالک میں کتاب کی اہمیت ابھی تک کم نہیں ہو سکی ۔۔۔

کتابوں کی بڑی بڑی موبائل ایپس حتیٰ کہ ٹیبلٹ متعارف کرائے گئے لیکن آج بھی امریکہ میں کوئی کتاب یا ناول شائع ہوتا ہے تو اس کی لاکھوں کاپیاں ابتدائی دنوں میں ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہیں۔
ہمارے ہاں تو ایک ہزار کا ایڈیشن بھی بمشکل بکتا ہے۔ چند ایک بڑے ناموں کے سوا کتابیں اب فروخت نہیں ہو رہیں۔

لوگ ہر چیز ہر مزا ہر دکھ اور ہر سُکھ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔ جیسے ہی ایک منٹ کی فراغت ملتی ہے تو موبائل فون اٹھا لیتے ہیں‘ جیسے ان کے ہر غم کا علاج یہی ہو۔

اب جو قوم چوبیس گھنٹوں میں سے آٹھ‘ نو یا دس گھنٹے روزانہ سوشل میڈیا پر ضائع کرے گی اس سے یہ کیسے امید کیا جا سکتی ہے کہ وہ نئے سال کے لئے اپنے طے کردہ مثبت اہداف بروقت حاصل کر لے۔

آپ سکیورٹی گارڈ سے لے کر ٹریفک وارڈن اور ایک نجی ورکر سے لے کر سرکاری افسر تک ملاحظہ کر لیں‘ ہر کوئی تازہ وائرل ویڈیوز کے بارے میں ہی بات کرتا ملے گا۔

سوشل میڈیا کا کمال دیکھیں کہ ہم  بچپن میں یہ سوچتے تھے کہ فلاں کولڈ ڈرنک کا سب کو پتہ چل چکا ہے ہم روز پیتے ہیں اور ہر دکان میں پڑی بھی ہوتی ہیں لیکن بار بار اس کی اتنی تشہیر کیوں کی جاتی ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ مہم برین واشنگ کا حصہ ہوتی ہے۔

مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان کو ایک چیز اتنی زیادہ مرتبہ دکھا دی جائے کہ اس کے لا شعور میں اس چیز کی معلومات اور عکس کندہ ہو جائے۔ وہ جب بھی کچھ کھانے لگے تو اس کے سامنے فلاں کولڈ ڈرنک کی طلب آ جائے۔

اب سوشل میڈیا پر جس طرح سے وائرل ویڈیوز کا ٹرینڈ چل پڑا ہے تو لوگوں کو اس کی لت پڑ گئی ہے بلکہ یہ عادت اب نشے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
کامیابی کے حوالے سے جہاں ہم بہت سے منصوبے بنا رہے ہیں وہاں ہمیں اپنے سوشل میڈیا کے استعمال پر نظرثانی بھی کرنی چاہیے بالخصوص بچوں کے بارے میں بہت زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔
اپنی پلاننگ میں زیادہ سے زیادہ آؤٹ ڈور سرگرمیاں شامل کریں‘ اس سے موبائل کا استعمال خودبخود کم ہو جائے گا ۔۔۔
 باقی جب تک آپ خود وہ کام نہیں چھوڑیں گے جس سے بچوں کو منع کروانا چاہتے ہیں‘ تب تک آپ کو مرضی کے نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔۔۔۔۔۔
اگر آپ خود نماز کے وقت موبائل پر فیس بک دیکھنے میں لگے ہوں گے‘ خود کھانے کے ساتھ لازمی ویڈیو دیکھیں گے تو بچوں کو کیسے ان چیزوں سے باز رکھ سکیں گے۔
جب بچہ آپ کے ہاتھ میں زیادہ وقت کتاب دیکھے گا تو خود بخود اس میں بھی جستجو پیدا ہو گی۔ آپ روزانہ ورزش کریں گے تو اس میں بھی یہی عادت پیدا ہو گی۔
ویسے بھی بچے اچھل کود جیسی سرگرمیوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں لیکن ٹیکنالوجی کے سیلاب میں بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی بہتے جا رہے ہیں۔
 جب تک ہم اپنی پلاننگ میں سوشل میڈیا اور موبائل کے استعمال کو مینج نہیں کریں گے ۔۔۔  ہماری ساری کی ساری پلاننگ دھری کی دھری رہ جائیں گی۔
اگر آپ کا ہر دن پچھلے سال کی طرح گزر رہا ہے۔۔۔ تو سنبھل جائیں ابھی موقع ہے۔۔۔ آپ نے  اپنے روشن مستقبل کے لیے  جو پلان بنائے ہوئے ہیں یا کہیں لکھے ہوئے ہیں تو ان پر توجہ دیجئے ۔۔۔۔  اگر آپ اسی طرح سے وقت ضائع کرتے رہے تو اپنے مقرر کردہ اہداف کیسے حاصل کریں گے۔