کوئی کام ناممکن نہیں

 کوئی کام ناممکن نہیں

کوئی کام ناممکن نہیں


محمود غزنوی صبح اٹھا تو اسے شدید درد اور تکلیف محسوس ہوئی، شاہی طبیب کو بلایا گیا، شاہی طبیب نے محمود غزنوی کا طبی معائنہ کیا اور کہا کہ : ’’آپ انتہائی بیمار ہو چکے ہیں، آپ کا جسم بیماریوں سے بھرا پڑا ہے، اور کوئی عضو بھی ٹھیک سے کام نہیں کر رہا آپ کو چاہیے کہ آپ مسلسل دو ماہ تک آرام کریں اور میں آپ کا علاج کروں گا۔ ان شاء اللہ آپ صحت یاب ہوں گے۔‘‘

محمود غزنوی نے کہا کہ ’’ابھی ایک آخری حملہ باقی اور شرک کی گرتی ہوئی دیوار کو ایک آخری دھکا دینا ہے، سومنات کا مندر توڑنا ہے اور میں دو ماہ تک انتظار نہیں کر سکتا، لشکر تیار ہے اور مجھے سومنات کا مندر فتح کرنا ہے۔‘‘ طبیب نے کہا آپ کی حالت ایسی نہیں کہ گھوڑے پر بیٹھ کر دو چار قدم بھی چل سکیں، آپ کو آرام کرنا چاہیے۔
محمود غزنویؒ نے طبیب کی بات توجہ سے سنی لیکن اس کے سامنے بلند مقصد تھا۔ اس نے اپنی شدید ترین تکلیف کو اہمیت نہیں دی۔

مضبوط قوت ارادی سے اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرتے ہوئے لشکر کو آخری حملہ کرنے کے لیے سومنات کی طرف پیش قدمی کا حکم دیا۔ کئی دن کی مسافت گھوڑے پر طے کرنے کے بعد وہ سومنات پہنچا۔

تاریخ گواہ ہے کہ شدید ترین لڑائی کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے فتح سے نوازا۔ سومنات کا مندر فتح ہوا اور محمود غزنوی کا نام تاریخ نے ’’بت شکن‘‘ کے لقب سے محفوظ کر لیا۔

انسان جب اپنی منزل کا تعین کر لے اور مقصد واضح ہو جائے تو مضبوط قوت ارادی سے اپنا مقصد حاصل کر لیتا ہے اپنے مقصد کی جانب مسلسل کوشش اور محنت انسان کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے، تاریخ میں بے شمار واقعات موجود ہیں کہ لوگوں نے مسلسل محنت و کوشش کی اور اپنے مقصد تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

یونان کے شکست خوردہ بادشاہ نے جب غار میں چھپ کر جان بچائی تو اس نے غار میں ایک مکڑے کودیکھا کہ وہ دیوار پر چڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور گر جاتا ہے پھر کوشش کرتا ہے پھر گر جاتا ہے، لیکن مسلسل کوشش سے وہ مکڑا دیوار پر چڑھ گیا۔
بادشاہ نے سوچا یہ تو کیڑا ہے، جس کے پاس کچھ نہیں میں بادشاہ ہوں اور جنگجو بھی ہوں، میرے پاس بہت بڑا لشکر بھی ہے میں کوشش کروں تو فتح حاصل کر سکتا ہوں، وہ غار سے باہر نکلا بچا کھچا لشکر جمع کیا اور دوبارہ پوری قوت سے مخالف فوج پر حملہ کر دیا حملہ اس یقین کے ساتھ کیا کہ اب میں ضرور کامیاب ہو جاؤں گا، اور بادشاہ کو کامیابی ہوئی۔
اس نے فتح حاصل کر لی۔ تاریخ کے اوراق پر اس کی ’’یقینی کوشش‘‘ رقم ہو گئی۔

دو افراد نے یہ سوچا کہ ہمیں ایسی چیز ایجاد کرنی چاہیے کہ جس سے ہم ہوا میں اڑ سکیں انھوں نے کئی بار کوشش کی، کبھی بڑے بڑے پر بنا کر اپنے جسم کے ساتھ لگائے کبھی لکڑی کے پر بنائے کبھی بلندی پر جا کر زیادہ بڑے پر بنا کر کوشش کی۔ مگر کامیابی نہ ملی۔لیکن انہوں وہ ہمت نہیں ہارے انھیں اپنی کامیابی کا یقین تھا۔ وہ مختلف تجربات کرتے رہے اس عزم اور یقین کے ساتھ کہ وہ اس مقصد میں ضرور سرخرو ہوں گے۔
آخر کار ایک دن انھوں نے اپنی محنت اور لگن سے انسان کا ہوا میں اڑنے کا خواب سچ کر دکھایا۔ یہ رائٹ برادران تھے جنہوں نے جہد مسلسل سے عظیم کامیابی حاصل کی اور یہ ایجاد ہوائی جہاز تھا وہ ہوائی جہاز بنانے میں کامیاب ہوئے۔

انسان اپنے ذہن کو استعمال کر کے مستقل مزاجی کے ساتھ بظاہر ناممکن کام کو بھی ممکن بنا سکتا ہے اور تمام شعبہ جات میں بہتر سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی و کامرانی کی منزل حاصل کر سکتا ہے۔