تصور میں خود کو کامیاب ہوتا دیکھیں

 

 تصور میں خود کو کامیاب ہوتا دیکھیں

تصور میں خود کو کامیاب ہوتا دیکھیں

  وہ بات چیت جو ہم دوسروں سے کرتے ہیں اس سے زیادہ اہم وہ بات چیت ہے جو ہم خود سے کرتے ہیں۔ اسے خود کلامی کہتے ہیں، انگلش میں اس کو Auto Suggestion کہتے ہیں۔ دراصل ہم جب خود سے بات چیت کر رہے ہوتے ہیں تو ہم خود کو نئے چیلنج اور حالات کے لیے تیار کر رہے ہوتے ہیں۔

دنیا کا ہر بڑا انسان پہلے خود اپنے آپ کو مانتا ہے، پھر بعد میں اپنی عملی جدوجہد کے ذریعے دنیا سے اپنا آپ منواتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم ﷺکو بھی فرمایا کہ ’’آپ یقینا رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ اور آپ ﷺکو اپنے رسول ہونے کا پورا یقین تھا، آپﷺ نے حنین کے دن فرمایا تھا:
       (( أَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبَ ))
’’ میں نبی ہوں، یہ کوئی جھوٹی بات نہیں۔‘‘
لہٰذا آپ کی خود کلامی آپ کے اندر سوئے ہوئے ’’جذبے‘‘ کو جگا دیتی ہے۔ سوئے ہوئے کا جاگنا اتنا اہم نہیں جتنا کسی جاگے ہوئے کا بیدار ہونا اہم ہے۔ اپنے آپ کو ہمیشہ اچھے جملے اور فقرے کہنے چاہییں۔ یعنی آٹو سجیشن ہمیشہ خود سے بات چیت کرتے ہوئے کہیں کہ آپ ایک بڑے مقصد کے لیے پیدا ہوئے ہیں…!۔
عظیم زندگی کا آغاز ہی اس تصویر سے وابستہ ہے جو آپ کے تخیل میں موجود ہے کہ آپ کو کیا کرناہے اورکیسا بننا ہے؟
دنیا کے تمام ماہرین نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی ذہن میں یہ خوبی و خصوصیت رکھی ہے اگر بڑے سے بڑا مقصد بذریعہ آٹو سجیشن اس میں فیڈ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ اس پر بالکل اسی طرح عمل درآمد کرتا ہے جیسے آپ مکان کا نقشہ کاری گر کو دے کر اسے تعمیر کے لیے کہتے ہیں۔
دنیا میں ہر چیز دوبار بنتی ہے، ایک بار کسی کے ذہن میں دوسری بار حقیقت (دنیا) میں۔ اگر آپ کے ذہن میں آپ کی کامیابی کی تصویر نہیں ہے تو حقیقت میں بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انسان دنیا کی واحد مخلوق ہے جو تصور (Imagine) کرسکتا ہے۔آپ کے اچھے تصورات ہی آپ کی زندگی کے معیار کا تعین کرتے ہیں، اس لیے پہلے ذہن میں کامیاب ہونے کا نقشہ بنایے، پھر اس کو حقیقت میں بدلنے کا سوچیے۔
اپنے ذہن کی سکرین پر مطلوبہ ہدف کو مکمل ہوتا دیکھیں۔آپ کا ہدف ملازمت کے لیے انٹرویو، کمرہ امتحان میں پیپر کا حل، کسی شخص سے ملاقات میں مطلوبہ مقاصد کا حصول غرض کہ جیسی آپ آئیڈیل شخصیت بننا چاہتے ہیں خود کو اس طرح بنتے ہوئے تصور میں دیکھیں، آپ ضرور کامیاب ہوں گے

آپ کوئی بھی کام یا کوئی بلند مقصد ذہن میں فیڈ کرتے ہیں تو آپ کو اپنے اس لاشعور پر مکمل بھروسا ہونا چاہیے تاکہ وہ کھل کر کام کر کے آپ کو مطلوبہ ٹارگٹ تک پہنچا سکے۔ اعتماد و بھروسا اس لیے ضروری ہے کہ لاشعور، شعور کی سطح کے نیچے رہ کر کام کرتا ہے۔ اس لیے خود کو پتا نہیں چلتا کہ زیر سطح کیا ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ اس کی سطح ہی ضرورت کے مطابق بے ساختہ کام کرنے میں ہے۔
 
ہم شعوری طور پر اپنے اس لاشعور میں جھانک سکتے ہیں کہ اس کا گیر کامیابی کے لیے لگا ہے یا نہیں لیکن ہم جذبات کے ذریعے سے اس کی حالت کا تعین کر سکتے ہیں۔ جب یہ کامیابی کے لیے مصروف عمل ہوتا ہے تو ہمیں اس کا احساس ضرور ہوتا ہے۔

آپ جیسا  بننا چاہتے ہیںاس کا اپنے ذہن میں ایک واضح تصور قائم کریں اور زندگی کے منصوبے کی یہ ذہنی تصویر حرکت پذیر ہو کر آپ کو ورطہ حیرت میں ڈال دے گی حقیقت میں توجہ کی صلاحیت کو حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود کو تصور میں اس صلاحیت کا حامل پائیں۔