کامیابی چھ خوبیوں سے ملتی ہے

  کامیابی چھ خوبیوں سے ملتی ہے
کامیابی چھ خوبیوں سے ملتی ہے


 بل گیٹس ہفتے میں دو کتابیں پڑھتا ہے لیکچر دیتا ہے ،جوگنگ کرتا ہے ،گولف کھیلتا ہے، فلمیں دیکھتا ہے، یہ پوری دنیا میں پولیو کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے یہ اپنے بچوں اور بیوی کو شاپنگ کرواتا ہے۔
 یہ ہفتے میں چار دن چھٹی کرتا ہےاور کام کے تین دن بھی یہ دفتر کو صرف چار گھنٹے روزانہ دیتا ہے۔
یوں ہفتے میں کام کے کل 12گھنٹے بنتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ ایک سیکنڈ میں 130 ڈالر کماتا ہےاس کی دولت میں روزانہ ایک لاکھ 87 ہزار دو سو ڈالر کا اضافہ ہوجاتا ہےاور یہ رقم پاکستانی روپوں میں اڑھائی کروڑ روپے بنتی ہے۔
محمد بشیر مزدور ہےاور روزانہ 12گھنٹے کام کرتا ہے سردیاں ہوں یا گرمیاں، بارش ہو یا آندھی ، دن رات کام کرتا ہے ۔
 یہ ہفتے میں کوئی چھٹی نہیں کرتا،اس نے زندگی میں کبھی کوئی فلم نہیں دیکھی، کبھی کتاب نہیں پڑھی، کبھی جوگنگ نہیں ، اس نے بیوی اور بچوں کو کبھی سیر نہیں کروائی، کبھی شاپنگ نہیں کروائی، لیکن یہ اتنی محنت کے باوجود روزانہ صرف ایک ہزار روپے کما رہا ہے،مہینےکےتیس ہزار روپے۔
ان دونوں میں زیادہ محنت کون کرتا ہے؟
 بل گیٹس یا محمد بشیر
 یقیناً آپ کا جواب ہوگا محمد بشیر
 محمد بشیر روزانہ 12گھنٹے کام کرنے کے بعد صرف ہزار روپے کماتا ہے جبکہ بل گیٹس پورے ہفتے صرف 12گھنٹے کام کرتا ہے ۔
یہ ایک سیکنڈ میں ایک سو تیس ڈالر یعنی 22 ہزار روپے فی سیکنڈ کماتا ہےیہ رقم 12گھنٹوں میں ایک کروڑ 58 لاکھ 40 ہزار روپے بنتی ہے۔

آپ محمد بشیرکے بار ہ گھنٹوں کی کمائی دیکھیں اور دوسری طرف بل گیٹس کی بارہ گھنٹے کی کمائی دیکھیںایک ہزار روپے۔
 دوسری طرف ایک کروڑ 58 لاکھ 40 ہزار روپے ایک طرف انتہائی محنت اور دوسری طرف پورے ہفتے میں صرف 12گھنٹے کام کیا ۔
ثابت ہوا کہ امیر ہونے کے لئے صرف محنتی ہونا کافی نہیں ہوتا ،اگر صرف محنت کامیابی کی کنجی ہوتی تو مزدور محمد بشیر کو بل گیٹس سے زیادہ امیر ہونا چاہیے تھا اور یہ نہیں ہوا ۔ہمیں امیر بننے کے لیے کیا کرنا چاہیے ........؟

دنیا میں جتنے بھی امیر لوگ ہیں ان میں 6 خوبیاں ہوتی ہے اگر محمد بشیر اپنے اندر یہ چھ خوبیاں پیدا کر لے تو یہ بھی بل گیٹس بن سکتا ہے کیونکہ بل گیٹس کو بل گیٹس ان چھ خوبیوں نے بنایا تھا۔
 آپ بھی اگر امیر ہونا چاہتے ہیں تو آپ بھی یہ چھ خوبیاں پیدا کر لیجیے اور میں گارنٹی دیتا ہوں کہ دنیا کی کوئی طاقت آپ کا راستہ نہیں روک سکتی ۔

پہلی خوبی

دنیا کے تمام امیر لوگ خواہش اور ضرورت کا فرق سمجھتے ہیں مثلاً دنیا کا ہر شخص امیر ہونا چاہتا ہے۔
 یہ کیا ہے ؟
 یہ خواہش ہے۔
لیکن کھانایہ ایک ضرورت ہے۔
اگر ہماری ساری خواہشیں بھی ادھوری رہ جائیں ہم اگر زندگی میں مکمل طور پر ناکام ہو جائیں لیکن اس کے باوجود زندہ رہیں گے، لیکن اگر ہماری ضروریات یعنی خوراک پانی اور آکسیجن اور ادویات پوری نہ ہوں تو کیا ہوگا ؟ہم زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ہماری ضروریات جتنی زیادہ ضروری ہوتی جاتی ہیں ہم ان کے لیے اتنی سر توڑ کوشش کرتے ہیں مثلاً جتنے دنوں سے بھوکے یا پیاسے ہوں گے ہمیں ادویات  نہیں مل رہی ہونگی یا ہم آکسیجن کی کمی کا شکار ہو ں گے تو ہم کیا کریں ؟
ہم فوکس ہوجائیں گے ،ہم اتنی ہی اپنی کوشش بڑھا دیں گے۔

یاد رکھیےہمارے ضروریات جتنی زیادہ ہوگی ہماری وہ خواہش اتنی ہی برننگ ہو جائیں گی اور دولت اس وقت تک آپ کے پاس نہیں آتی جب تک یہ آپ کی برننگ ڈیزائر نہیں بنتی آپ صرف خواہش سے امیر نہیں ہو سکتے۔
آپ اس وقت امیر ہوں گے جب آپ دولت کو آکسیجن ،جب آپ دولت کو کھانے، جب آپ دولت کو پانی اور جب آپ دولت کو دوا جتنی برننگ ڈیزائر نہیں بنا لیں گے۔

 امیر لوگوں میں دولت خواہش نہیں ہوتی ہے، ڈیزائر (ضرورت)ہوتی ہےیہ صرف مانگتے نہیں ہیں بلکہ اس کے لیے جان لگا دینے والی کوشش کرتے ہیں۔

 دوسری خوبی

 ہمیں دولت کتنی چاہیے ؟
امیر لوگ اپنی دولت مندی کا گول فکس کرتے ہیں یہ پہلے دن فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم نے کھرب پتی بننا ہے ،ہم نے ارب پتی بننا ہے یا ہم نے کروڑ یا لاکھ پتی بننا ہے۔
یہ صرف یہ نہیں کہتے ہم امیر بننا چاہتے ہیں ہیں بلکہ یہ ہمیشہ کہتے ہیں ہم ارب  پتی یا کروڑ پتی بننا چاہتے ہیںاور ہم یہ سب اتنے عرصے میں اور اس طرح کریں گے جبکہ غریب صرف یہ کہے گا میں امیر بننا چاہتا ہوں۔یاد رکھیے دس ہزار روپے والا شخص بھی امیر ہوتا ہے اور کھرب پتی بھی ہوتا ہے ہے۔
 آپ کون سا امیر بننا چاہتے ہیں؟
آپ جب بھی مانگیں تو دینے والے کی قدرت کو دیکھ کر مانگیں اور جب دیں تو اپنی اوقات کو دیکھ کر دیںہم نے جب  اللہ سے ہی مانگنا ہے تو پھر ہم اس سے اس کی قدرت کے مطابق کیوں نہیں مانگتے۔
ہم اس سےیہ کیوں نہیں کہتےیاباری تعالی ہم کھرب پتی بننا چاہتے ہیں۔
اسے اپنی برننگ ڈیزائن کیوں نہیں بناتے۔۔۔ ؟
 اب اسے برننگ ڈیزائر بنایے اور اس کا نتیجہ دیکھیے۔
 یہ کیا بات ہوئی یا اللہ امیر بنا دے یا اللہ مجھے امیر بنا دے۔
 سیدھی بات کریں ۔
 فوکس ہو کر بات کریں۔
 اللہ تعالیٰ سے کھل کر بات کریں اوراسے بتائیںکہ آپ کو کتی دولت چاہیے۔
 بل گیٹس کہتا ہے کہ میں نے 1980 میں اس وقت فیصلہ کر لیا تھا میں دنیا کا امیر ترین شخص بنوں گا جب میرے پاس پرانی گاڑی ہوتی تھی اور میرے پاس اس کی قسطیں ادا کرنے کے لیے بھی رقم نہیں ہوتی تھی آپ بھی ایسا ہی کریںآپ پھر ہی امیر بن سکیں گے۔

تیسری خوبی

 آپ امارت کی ڈیزائر (خواہش) کے لئے کیا کیا کر سکتے ہیں یہ دنیا کچھہ دو اور لو کے اصول پر قائم ہے۔ آپ کو کچھ پانے کیلئے کچھ کھونا پڑتا ہے یہ نہیں ہو سکتا آپ سارا دن سوئےرہیں آپ نہ پڑھیں نہ سیکھیں نہ کوشش کریں نہ ٹیم بنائیں ، نہ مارکیٹ سروے کریں۔۔۔ اور نہ نئے نئے آئیڈیاز پر کام کریں اور آپ امیر ہو جائیں ۔
آپ اگر اپنا سست لائف سٹائل جس میں ہر چیز سلو موشن میں چل رہی ہے آپ اگر یہ قربان کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو پھر آپ امیر نہیں ہو سکتے۔
یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ 9 تا 5 بجے تک کام کریں ، ہمیشہ لیٹ پہنچیں کوئی کتاب نہ پڑھیں ، کوئی مینجمنٹ کورس نہ کریں اور آپ امیر بھی ہو جائیں یہ صرف فلموں میں ہوتا ہے زندگی میں نہیں۔
امیر بننے کے لیے آپ کو آپ کو کلارک کے الارم سے بھی پانچ منٹ پہلے اٹھنا پڑتا ہے ہے اور اگر آپ یہ نہیں کر سکتے تو آپ صرف امیر ہونے کے خواب دیکھیں اور امیروں کو گالیاں دے دے کر زندگی گزار دیں ۔

چوتھی خوبی

 امیر لوگ امارت کی ڈیڈ لائن طے کرتے ہیں خواہش اور گول میں صرف ڈیڈ لائن کا فرق ہوتا ہے
 آپ اپنے پلان سے ڈیڈ لائن نکال دیجئے گا آپ کا پلان خواہشوں کا گودام بن جائے گا اور آپ اپنی خواہشوں میں ڈیڈ لائن ڈال دیں یہ گول بن جائیں گی۔
لوگ امیربننے سے پہلے یہ طے کر لیتے ہیں کہ یہ کس عمر تک کتنی دولت کمائیں گے۔
  آپ بھی ڈیڈ لائن کے ساتھ اگلے دو، پانچ اور سات سال کاپلان بنائیں،آپ بہتری کی طرف چل پڑیں گے

 پانچویں خوبی

امیر لوگ اپنا پلان نہیں بدلتے۔۔۔۔ امیر لوگ بڑی توجہ اور عرق ریزی سے پلان بناتے ہیں یہ اس میں جتنی بھی تبدیلیاں کرنا چاہتے ہیں یہ کام شروع ہونے سے پہلے کر لیتے ہیں لیکن جب ایک بار کام شروع ہو جاتا ہے تو پھر یہ کامیاب ہونے تک اپنا پلان  تبدیل نہیں کرتے۔
آپ اگر روزاپنی منزل اپنا گول بدلتے رہیں گے تو آپ سفر تو بہت کریں گے لیکن آپ کہیں پہنچ نہیں سکیں گےلہذا آپ اگر امیر ہونا چاہتے ہیں تو پھر پلان نہ بدلیں ناکام ہونے کے باوجود اسی پلان پر کام کرتے رہیں۔۔۔۔ آپ کامیاب ہو کر رہیں گے۔

چھٹی خوبی

یہ اپنے گول .....کتنے عرصے میں امیر ہونا چاہتے ہیں.......؟ اور یہ امیر ہونے کے بعد اپنی رقم کا کیا کریں گے......؟یہ ساری چیزیں اپنی ڈائری میں لکھ لیتے ہیں اور روزانہ صبح وشام دوائی کی طرح طرح انہیں پڑھتے رہتے ہیں انہیں دہراتے رہتے ہیں۔
بل گیٹس نے کہا تھا میں نے اس وقت دنیا کا امیر ترین شخص بننے اور پھر اپنی ساری دولت چیرٹی کرنے کا فیصلہ کیا تھاجب میرے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا تھا اور میں اس وقت روز شیشے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنا یہ مقصد خود کو بتاتا تھا۔
آپ جو بھی چاہتے ہیں آپ وہ لکھیں،روز پڑھیں اور پھر تسبیح کی طرح خود کو بتائیں کہ آپ نے کیا کیا کرنا ہے؟اور آپ کواس کے لیے کتنا عرصہ لگے گا؟آپ یقینا امیر ہو جائیں گے۔