کامیابی کے لیے اپنے رب سے تعلق مضبوط کیجیے

 کامیابی کے لیے اپنے رب سے تعلق مضبوط کیجیے
کامیابی کے لیے اپنے رب سے تعلق مضبوط کیجیے

نماز اور دعا سے کامیابی

ہم آپس کے تعلق میں اس قدر مگن ہیں کہ ہمارے ذہن سے اپنے خالق و مالک کی یاد ہی نکل گئی ہےہم اپنے پروردگار کو بھول ہی گئے ہیں حالانکہ مستقل اور پائیدار کامیابی اللہ تعالیٰ سے پختہ تعلق کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔
نماز اور دعا سے اپنے رب سے تعلق مضبوط کیجیے جب آپ اللہ تعالیٰ سے یقینِ کامل سے ہاتھ اٹھاکرمانگتے ہیں اور آنکھوں سے آنسوؤں بھی نکل آئیں تو اللہ تعالیٰ کی ذات اتنے خوش ہوتے ہیں کہ آنسو کا قطرہ بعد میں گرتا ہےاللہ کی ذات پہلے آپ کی ساری خطائیں معاف کر دیتی ہےنماز اور دعا سے آپ کو اللہ تعالیٰ سے کامیابی کا پختہ یقین برقرار رہے گا ۔

جب بھی آپ دعا مانگیں یقین کامل سے مانگیں کہ یہ دعا ضرور قبول ہو گی ۔جب آپ دعا مانگتے ہیں تواس دعا سے آپ کا ذہن،خیال سے اس شے کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔دعا جو آپ کا ذہنی عمل ہے اس سے آپ کا شعور آپ کے لا محدود لاشعورکی طاقت سے واضح جواب پاتا ہے۔جس کے نتیجے میں دعا کی قبولیت کا یقین بڑھ جاتا ہے۔اور انسان کو یقین ہو جاتاہے کہ میری دعا ضرور قبول ہوگی۔

یہی یقین،یہی جذبہ مقصد مکمل ہونے تک اس کا بھرپورساتھ دیتا ہے۔نماز اور دعا میں بہت سی حکمتیںہیں اپنے رب کو راضی کر لیں آپ دنیا میں بھی کامیاب و کامران ہوں گے اور آخرت میں بھی سرخرو ہو ںگے۔

اپنے خالق کی حفاظت میں آجایے

اپنے خالق و مالک کی حفاظت میں آنےکے لیےکامیابی کےاس راستےکو مضبوط پکڑیں تاکہ شیاطین ،جنوں اور لوگوں میں سے جو حاسدین ہیں ان کے حسد اوران کے شر سے اللہ کی حفاظت میں رہیں۔
صبح و شام کے اذکار(مسنون)روزانہ پابندی سے کریں۔

نبی کریم ﷺ سے جو دعائیں صبح و شام کےاوقات میں ثابت ہیں وہ روزانہ لازمی پڑھیں۔  

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ: ’’ رسول اللہe کبھی بھی میرے گھر سے نہیں نکلتے تھے مگر آسمان کی طرف منہ کرکے یہ دعا ضرور پڑھتے تھے۔‘‘

1: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَضِلَّ اَو اُضَلَّ، اَوْ اَزِلَّ اَوْ اُزَلَّ ، اَوْ اَظْلِمَ ، اَوْ اُظْلَمَ اَوْ اَجْھَلَ اَوْ یُجْھَلَ عَلَیَّ
’’ اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا مجھے گمراہ کردیا جائے، میں پھسل جاؤں یا مجھے پھسلا دیا جائے، میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، میں کسی سے جہالت سے پیش آؤں یا کرئی میرے ساتھ جہالت سے پیش آئے۔‘‘
(سنن ابی ابوداود: 5094)

2:نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے:
جو شخص صبح کے وقت آیۃ الکرسی پڑھےوہ شام تک جنوں سے محفوظ ہو جاتا ہے،اورجو اسے شام کے وقت پڑھےوہ صبح تک ان سےمحفوظ ہوجاتاہے (النسائی)
 اَللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الحَيُّ القَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ العَلِيُّ العَظِيمُ  (البقرہ:255)
اللہ کےعلاوہ کوئی(سچا)معبود نہیں،وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور تمام کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے،اسے نہ اونگھ آتی ہےاور نہ نیند،آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت ہے،کون ہے جو اس کی جناب میں بغیر اس کی اجازت کے کسی کےلئے شفاعت کرے،وہ تمام وہ کچھ جانتا ہےجولوگوں کے سامنے اور ان کے پیچھے ہے،اس کی کرسی
کی وسعت آسمانوں اور زمین کو شامل ہے،اور ان کی حفاظت ان پر بھاری نہیں،وہی بلندی اور عظمت والا ہے ۔

3:جو شخص صبح وشام یہ سورتیں ـــــــــ تین تین مرتبہ پڑھےگاتو یہ اُسے ہر چیز سے کافی ہوجائیں گی۔ 
بِسْمِ اللہِ الرّٰحْمٰنِ الرحِیْمo    ِ  قُلْ ھُوَ اللهُ اَحَدٌ o اَللهُ الصَّمَدُ o لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ o وَ لَمْ یَکُنْ لَّهٗ کُفُوًا اَحَدٌ o (صحيح الترمذی)
کہہ دیجئے! کہ الله ایک ہے۔ الله بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا ہوا، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔ (تین بار)
 بِسْمِ اللہِ الرّٰحْمٰنِ الرحِیْمِo  قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ o مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ o وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ o وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ o وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ o
کہہ دیجئے! میں صبح کے رب کی پناہ چاہتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ پھیل جائے، اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ (تین بار)
بِسْمِ اللہِ الرّٰحْمٰنِ الرّحِیْمِo  قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ o مَلِکِ النَّاسِ o اِلٰهِ النَّاسِ o مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ o الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ o مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ o
کہہ دیجئے! میں لوگوں کے رب کی پناہ چاہتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی۔ لوگوں کے معبود کی۔ وسوسے ڈالنے والے، بار بار پلٹ کر آنے والے کے شر سے۔ وہ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے
(تین بار)

4:نبی کریمﷺ نے فرمایا:

 کہ جو شخص یہ دعا صبح وشام تین تین بار پڑھےگا اس کو کوئی چیز تکلیف نہیں دے گی۔
بِسمِ الله الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسمِهِ شَيءٌ في الأَرضِ وَلاَ فِي السَّماَءِ وَهُوَ  السَّمِيعُ العَلِيم (ابوداؤد ، ترمذی)
اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ہوتے ہوئے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی،زمین کی ہویا آسمانوں کی،وہ خوب سننے والا بڑا جاننے والا ہے
شام تک اُسے کوئی ناگہانی آفت کا سامنا نہیں ہوگا۔(ابوداؤد:5088)

5:  نبی کریم 
یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری:6369)
اَللّٰھُمَّ انِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ والْکَسِلِ والْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّیْنِ وَغَلَبَۃِ الرِّجَالِ
’’ اے اللہ! یقینا میں تیری پناہ میں آتا ہوں پریشانی اور غم سے اور عاجز آجانے اور سستی سے، اور بزدلی اور کنجوسی سے اور قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے۔‘‘

6: سیدناعائشہ 
رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کسی نے آپ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ قرض سے کس قدر پناہ مانگتے ہیں! تو آپe نے فرمایا: ’’ آدمی جب مقروض ہو تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 1325)

اَللّٰھُمَّ انِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَالْمَغْرَمِ
:’’ اے اللہ! بے شک میں عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور فتنہ مسیح دجال سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! یقینا میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

:7 تین تین بار صبح وشام یہ دعا پڑھیں:
اللَّهُمَّ عَافِنِي في بَدَني، اللَّهُمَّ عافِني في سَمْعي، اللَّهُمَّ عافِنِي في بَصَري، لا إله إلاَّ أنت، اللَّهُمَّ إني أعُوذُ بِكَ من الكُفْرِ، والفَقْرِ، اللَّهُمَّ إني أعُوذُ بِكَ مِنْ عذابِ القَبْرِ، لاَ إله إلاَّ أنْتَ (صحيح سنن ابی داود (
اے اللہ !مجھے میرے جسم میں عافیت دے، اے اللہ !مجھے میرےکانوں میں عافیت دے، اے اللہ !مجھے میری آنکھوں میں عافیت دے،تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، اے اللہ !میں کُفر اور فقر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور عذابِ قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں،تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

8:
نبی کریم ﷺنے فرمایا: ’’ جس بندے نے سید الاستغفار (یہ دعا) اس پر یقین رکھتے ہوئے دن کے وقت پڑھی اور وہ شام سے پہلے پہلے فوت ہوگیا تو وہ جنتی ہے، اور جس بندے نے اس دعا پر یقین رکھتے ہوئے رات کے وقت پڑھی اور وہ صبح ہونے سے پہلے پہلے فوت ہوگیا تو وہ جنتی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 6306)
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ ، لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ٓاَنْتَ،خَلَقْتَنِیْ، وَاَنَا عَبْدُکَ، وَاَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ ،اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّما صَنَعْتُ، اَبُوْٓئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ ، وَاَبُوْٓئُ بِذَنْبِیْ ، فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلاَّ ٓ اَنْتَ
’’ اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا ، اور میں تیرا بندہ ہوں ،اور میں اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں تجھ سے اس چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جس کا میں نے ارتکاب کیا، اپنے اوپر میں تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں جو مجھ پر ہے، اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں لہٰذا تو مجھے معاف کردے بے شک تیرے سوا گناہوں کو کوئی معاف نہیں کرسکتا‘‘ ۔

:9یہ دعا صبح وشام ایک مرتبہ:
اللَّهُمَّ إنِّي أسْألُك العافية في الدُّنيا والآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إنِّي أسألك العَفْو والعافية في ديني ودُنْيايَ وأهْلي ومَالي، اللَّهُمَّ اسْتُرْعَوراتي وَآمِنْ روعاتي، اللَّهُمَّ احفظني من بين يديَّ ومِنْ خَلْفي وَعَنْ يميني وعَنْ شِمَالي ومِنْ فَوقِي وأَعُوذُ بعظمتك أن أُغتال مِنْ تحتي. ( ابوداؤد،ابن ماجہ)
اےاللہ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں ہر طرح کی عافیت کا سوال کرتا ہوں یا اللہ ! اپنے دین ،دنیا، اہل خانہ اور مال و دولت کے متعلق عافیت اور معافی کا طلب گار ہوں۔ یا اللہ ! میرے عیب چھپا دے ۔

 مجھے میرے اندیشوں اور خطرات سے امن عنایت فرما ۔یا اللہ ! میرے آگے ، پیچھے ، دائیں ، بائیں اور اوپر سے میری حفاظت فرما ۔ اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے نیچے سے اُچک لیا جاؤں ۔

:10نبی کریمﷺ صبح کو یہ دعاء پڑھا کرتے تھے۔
اللَّهُمَّ بِكَ أصبحنا وبِكَ أمسينَا وبِكَ نَحْيا وبكَ نَمُوتُ وإليك النُشُورُ
ترجمہ:اے اللہ ! تیرے نام ہی سے ہم نے صبح کی اور تیرے ہی نام سے ہم نے شام کی ،تیرے ہی نام سے ہم جیتے ہیں اور تیرے ہی نام سے ہم مرتے ہیں اور تیری ہی جانب ہمیں لوٹ کر آنا ہے۔(ترمذی:3391)

10۔شام کے وقت یہ دعا کہے:
اللَّهُمَّ بك أمسَيْنا وبِكَ أصبحنا وبِكَ نحيا وبِكَ نموتُ وَإِليكَ المصيرُ صحيح (صحيح الترمذي)
اے اللہ ! ہم نے تیرے ہی ( فضل کے ) ساتھ شام کی اور تیرے ہی ( فضل کے ) ساتھ صبح کی ، تیرے ہی (فضل )سے زندہ اور تیرے ہی نام پر مرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

:11أمسينَا  وأمسى المُلْكُ لله، والحَمْدُ لله، لاَ إلَهَ إلاَّ الله وحده لا شريك له،له المُلْك ولَهُ الحَمْدُ وهُو على كُلِّ شيءٍ قَديرٌ، رَبِّ أسْألُك خير ما في هذه الليلة وخَيْرَ ما بعدَها وأعُوذُ بِكَ من شرِّ هذه الليلة وشرِّ ما بعدها رَبّ أعُوذُ بِكَ من الكَسَل وسُوءِالكِبَرِ، ربِّ أعُوذُ بِك من عَذَابٍ في النارِ وَعَذَابٍ في القَبْرِ
 ہم نے شام کی اور ساری بادشاہی (شام کے وقت بھی) اللہ کی ہوئی، سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی اور اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ یا اللہ! میں تجھ سے اس رات کی اور اس رات کے بعد آنے والے ہر لمحے کی بھلائی مانگتا ہوں اور تجھ سے اس رات کی اور اس کے بعد ہر لمحے کی برائی سے پناہ طلب کرتا ہوں، یا اللہ! میں سستی اور انتہائی بڑھاپے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، یا اللہ! میں جہنم میں کسی بھی قسم کے عذاب سے اور قبر میں کسی بھی قسم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
اور جب صبح ہوتی تو یہی الفاظ کہتے اور شروع میں کہتے: أصْبَحْنَا وأصْبَح المُلْك لله...  (روا ه مسلم )

12:جس نے مذکورہ کلمات صبح اور شام پڑھ لیے تو اُس کی جانب سے اُس دن اوراُس رات کا شکر اداء ہوجائے گا۔
”اَللّٰهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِيْ مِنْ نِّعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِّنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ ، لَا شَرِيْكَ لَكَ ، فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ “
اے اللہ! جو بھی نعمت میرے پاس یا تیری مخلوق میں سے کسی کے پاس بھی صبح کے وقت موجود ہے تو وہ صرف تنہا تیری ہی جانب سے ہے،(اُن میں)، تیرا کوئی شریک نہیں،پس تیرے لئے ہی ساری تعریف اور شکر ہے۔(ابوداؤد:5073)

13:اِن کلمات کے پڑھنے والے کے اُس دن کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ایک دفعہ مذکورہ کلمات کہنے پر جسم کا چوتھائی حصہ جہنم سے آزاد ہوجائے گا، اور چار مرتبہ کہنے سے مکمل جسم آزاد ہوجائے گا ۔(ابواداؤد:5069)
”اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَ مَلَائِكَتَكَ وَ جَمِيعَ خَلْقِكَ ، أَنَّكَ أَنْتَ اللهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ “
اے اللہ میں نے صبح کی ،میں تجھے ،تیرے عرش کو اُٹھانے والے فرشتوں اورتمام فرشتوں کو اور تیری تمام مخلوقات کو اِس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ بیشک تو ہی اللہ ہے ،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ،تو اکیلا ہے،تیرا کوئی شریک نہیں ، اور (اِس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ )حضرت محمّدﷺتیرے بندے اور تیرے رسُول ہیں ۔

14:نبی کریمﷺ نے فرمایا:"جس نے ایک دن میں سو بار یہ الفاظ کہے،اسے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہوگا،اور اس کےلئے(نامہ اعمال میں)سو نیکیاں لکھی جائیں گی،اوراس کے سو گناہ مٹا دئیے جائیں گے،اور ان کی وجہ سے سارا دن رات تک وہ شیطان سے محفوظ رہےگا،اور کسی کا عمل اس کےعمل سے افضل نہیں ہوگا،سوائے اس شخص کےجو اس سے زیادہ ذکر کرے"(بخاری -مسلم)
لَا إلَه إلّا اللهُ وَحَدُّهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمَلِكَ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلُّ شَيْءِ قَدِير(ِ ایک دن میں سو بار)
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،وہ اکیلا ہے ،اُس کا کوئی شریک نہیں ،اُسی کیلئے بادشاہت ہےاور اُسی کیلئے تعریف ہے،اُسی کے ہاتھ میں ساری بھلائی ہے،وہی زندہ کرتا اور وہی موت دیتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

:15نبی کریمﷺ نے فرمایا:
"جو شخص مجھ پر دس بار صبح اور دس بار شام درود بھیجے گا ،اسےقیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہوگی"
اللَّهُمَّ صَلِّ  على  مُحمَّد  وعلی ال محمد

16۔ 100 یا 70 مرتبہ استغفار ضرور کریں
استغفر الله واتوب إليه
میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اسی کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ (روا لبخاری )

17۔سیدناعثمان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ جو شخص صبح اور شام تین تین مرتبہ یہ کلمات پڑھ لیاکرے، اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔
اورابوداود کی روایت میں ہے کہ اسے کوئی ناگہانی آفت نہیں پہنچے گی۔
سْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ   
اللہ کے نام سے(میں صبح یا شام اسی کی پناہ میں آتا ہوں)، اس کے نام سے زمین و آسمان میں کوئی چیز بھی نقصان نہیں دیتی، اور وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔

18:”أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَّهَامَّةٍ، وَّمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَّامَّةٍ“
ترجمہ:میں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات(یعنی اَسماء و صفات) کی پناہ میں آتا ہوں ہر شیطان اور ڈسنے والے جانور سے اور ہر ملامت کرنے والی آنکھ سے۔
مذکورہ کلمات نظرِ بد سے حفاظت کیلئے بہترین کلمات ہیں۔

19:ہ کلمات خوف و گھبراہٹ سے حفاظت اور اُس کیفیت کو دور کرنے کیلئے بڑے مفید اور بہترین ہیں ۔صبح و شام تین تین مرتبہ پڑھیں۔
 اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
’’ میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘
نبی کریم  نے فرمایا: ’’ جب تم میں سے کوئی کسی جگہ پڑاؤ ڈالے تو یہ کلمات کہے، جب تک وہ وہاں سے کوچ نہیں کر جاتا اس کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی۔‘‘  (صحیح مسلم:6880)

20:حضرت جبریل علیہ السلام نےشیاطین و جنّات کے نقصان سے بچنے کیلئے مذکورہ کلمات نبی کریمﷺکو سکھائے تھے۔
”أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَّ لَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَ ذَرَأَ وَ بَرَأَ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ، وَمِنْ شَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَّطْرُقُ بِخَيْرٍ يَّا رَحْمٰنُ“
میں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات(یعنی اَسماء و صفات) کی پناہ میں آتا ہوں جن سے نہ کوئی نیک آگے بڑھ سکتا ہے نہ گناہ گار، ہراُس چیزکےشرسےجس کو اللہ نے پیدا کیا ، پھیلایا اور وجود دیا،اور ہر اُس چیز کے شر سے جوآسمان سے اترتی ہےاورجوآسمان پرچڑھتی ہےاورہر اس چیزکےشرسےجوزمین کےاندرپیداہوتی ہےاورجوزمین سے (پھوٹ کر)نکلتی ہےاوررات دن کےفتنوں کےشرسےاوررات دن کے(ناگہانی) واقعات اورحادثوں کےشرسے،بجز اس اچھے واقعہ کےجوخیر کولائے(کہ وہ تو سراسر رحمت ہے)اے بہت رحم کرنے والے۔(مسند احمد:15461)     


21۔اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَ نَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ۔
 اے الله! بے شک ہم تجھ کو ان کے مقابلے میں رکھتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں (ایک بار)

:22نبی کریم ﷺنے فرمایا:
جس نے سورہ بقرہ کی آخری آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اسے ہر آفت سے بچانے کےلئےکافی ہوجائیں گی بخاری شریف میں ہے جو شخص ان دونوں آیتوں کو رات کو پڑھ لے اسے یہ دونوں کافی ہیں۔

 مسند احمد میں ہے نبی کریم  نے فرمایا سورۃ بقرہ کی آخری آیتیں عرش تلے کے خزانہ سے دیا گیا ہوں مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ نہیں دی گئیں۔  (رواه البخاري)
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ. لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
 یہ رسول اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی جانب سے اس کی طرف نازل کیا گیا اور سب مومن بھی، ہر ایک اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا، ہم اس کے رسولوں میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اور انھوں نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، تیری بخشش مانگتے ہیں اے ہمارے رب! اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ [285]
 
اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق، اسی کے لیے ہے جو اس نے (نیکی) کمائی اور اسی پر ہے جو اس نے (گناہ) کمایا، اے ہمارے رب! ہم سے مؤاخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر جائیں، اے ہمارے رب! اور ہم پر کوئی بھاری بوجھ نہ ڈال، جیسے تو نے اسے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے، اے ہمارے رب! اور ہم سے وہ چیز نہ اٹھوا جس (کے اٹھانے) کی ہم میں طاقت نہ ہو اور ہم سے در گزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر، تو ہی ہمارا مالک ہے، سو کافر لوگوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ [286]

23۔:جس شخص نے صبح و شام یہ کلمات سات مرتبہ کہے ، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت کے اہم معاملات میں اسے کافی ہو جاتا ہے -
حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ  عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ  وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
مجھے اللہ ہی کافی ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، اس پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا رب ہے ۔