مطالعہ سے خود کو سپر بنائیں

 مطالعہ سے خود کو سپر بنائیں

مطالعہ سے خود کو سپر بنائیں

کتاب سے بہتر کوئی دوست نہیں ہے یہ صرف کہاوت نہیں بلکہ حقیقت ہے ۔

مطالعہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی غور و فکر اور دھیان کے ہیں۔

  اصطلاحی مفہوم میں مطالعہ  مضامین پڑھنے، انہیں  اپنے ذہن ودماغ میں بیٹھا نے اور جذب کرنے کا نام ہے۔ 

مطالعہ سے یادداشت بہتر ہوتی ہے


جب آپ کسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس کے تمام مندرجات  ذہن نشین کر لیتے ہیں۔کمال یہ ہے کہ انسانی ذہن ایک  ایسا شہکار ہے  کہ جو اس سے بڑھ کر ناممکن چیزیں بھی بڑی آسانی سے اپنے اندر محفوظ  کر سکتا ہےآپ ذہن میں جو کوئی نئی یادداشت تخلیق کرتے ہیں، اس سے نیوران میں نہ صرف نئے عصبی ریشے بنتے ہیں بلکہ پہلے سے موجود عصبی ریشے بھی مضبوطے سے مضبوط تر ہوتے چلے جاتے ہیں یہ عصبی ریشے قلیل مدتی یادداشت کو واپس بلانے اور مزاج میں توازن اور ٹھہراؤ پیدا کرتے ہیں۔

مطالعہ سے ذخیرہ الفاظ بڑھتے ہیں

 

مطالعہ کرنے والا ذخیرہ الفاظ کی بنا پر باآسانی اپنی بات  دوسروں تک بہتر انداز میں پہنچا سکتا ہے اور سمجھا سکتا یے اگر انسان کا اتنا مطالعہ نہ ہو گفتگو میں اعتماد اور سلیقہ پیدا نہیں ہو سکتا ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ  کہ دور جدید کےمسائلِ اور ان کیا حل وسیع مطالعہ سے ہی ممکن ہے۔جب زیادہ مطالعہ کیا جائے گا تو آپ ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہوتا جائے گا 

مطالعہ سے لکھنے کی صلاحیتیں بڑھتی ہیں


مطالعہ سے ناصرف ذخیرہ الفاظ  میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ انسان کی لکھنے کی صلاحیتیں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انسان جتنا  زیادہ مطالعہ کرتا ہے اس کی لکھنے کی صلاحیتیں اتنی ہی  بہتر ہوتی جاتی ہیں۔

جب آپ دوسرے مصنفین کے بہترین انداز کو دیکھتے ہیں تو ان کی تحریریں آپ کے لیے موٹیویشن کا باعث بنتی ہیں۔

مطالعہ سے دوسروں کے تجربات  سے سیکھنے کو ملتا ہے


 اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہو تو ۔۔ اپنا مطالعہ بڑھا دیں۔۔۔  یادداشت کمزور ہے تو زیادہ کتابیں پڑھیں ، وقت کا درست استعمال چاہتے ہیں تو اس حوالےسے کتابوں کا مطالعہ کریں۔


 آپ کسی بھی شعبہ حیات میں کامیابی چاہتے ہیں تو آپ  اپنے متعلقہ موضوعات پر مسلسل مطالعہ کریں اس طرح آپ اس شعبہ کے افراد کے تجرب اور ان کی غلطیوں سے  سیکھتے ہوئے ان سے بچ کر بآسانی اس شعبہ میں کامیاب و کامران ہوسکتے ہیں ۔


مطالعہ سے ذہنی سکون ملتا ہے


 مطالعہ سے ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے جو لوگ باقاعدگی سے مطالعہ کرتے ہیں تو ان کو پرسکون نیند آتی ہے

مطالعہ ذہنی سکون کے ساتھ ساتھ  انسان کے دل کو بھی راحت بخشتا ہے ۔

ماہرین کہتے ہیں کہ مطالعہ سے انسانی صحت پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں 

ماہرین کے نزدیک زیادہ مطالعہ سے زندگی بڑھتی ہے۔ یہ تحقیق جرنل آف سوشل سائنسس اینڈ میڈیسن میں شائع ہوئی تھی۔


2009ء میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف سسیکس میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مطالعے کی عادت ذہنی تنائو اور پریشانی کو68 فیصد کم کرتی ہے ۔ بعض اوقات اس کا فائدہ موسیقی سننے اور چہل قدمی سے بھی زیادہ ہوتا ہے ۔

ماہرین نے6 منٹ تک مختلف لوگوں کو اخبار ، کتاب یا کوئی اور تحریر پڑھنے کے لیے دی اور اس دوران ان کے دل کی دھڑکن اور پٹھوں میں تنائو کو نوٹ کیا گیا ، ڈاکٹر کے مطابق مطالعہ انسان کو پریشانیوں اور فکروں سے آزاد کراتا ہے۔اس کے علاوہ شعور اور سوچ کو بھی تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے ۔

تحقیق سے ثابت ہے کہ پڑھنے کی عادت اس عمل کو سست کرتی ہے اور الزائیمر جیسے مرض کو روکتی ہے 2013ء میں شکاگو میں رش یونیورسٹی میڈیکل سینٹر نے ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پڑھنے کی عادت دماغ اور اس کے خلیات کو قوت دے کر ڈیمنشیا کے عمل کو سست کرتی ہے۔


اس تحقیق میں290 سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کی اوسط عمر 89 سال تھی ۔ ان لوگوں کو مطالعے کا کہا گیا اور انہیں 6 سال تک مختلف ذہینی مشقیں کرائی گئیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ با قاعدہ طور پر کتابیں پڑھتے ہیں ان میں الزائیمر کا خطرہ نصف سے بھی کم ہو جاتا ہے ۔

مطالعہ نیند کے لیے موثر


 سوتے وقت اچھی کتاب کا مطالعہ نیند کے لیے بہت مفید ہے ماہرین کہتے ہیں کہ پڑھنے سے ذہنی سکون ملتا ہے اور پرسکون نیند آتی ہے ۔