سوال:ٹیلی پیتھی کیا ہے

 سوال:ٹیلی پیتھی کیا ہے

سوال:ٹیلی پیتھی کیا ہے

جواب : ٹیلی پیتھی ایک ایسا علم ہے جس کے ذریعے سے بغیر کسی مادی رابطے کے دو ذہنوں کے درمیان ایک ایسا ربط باہمی قائم ہو جاتا ہے کہ ہزاروں میل کے فاصلے کے باوجود پیغام رسانی ہوتی رہتی ہے جیسے یہ دونوں ایک ہی Wave Length پر ہوں۔ ٹیلی پیتھی یونانی زبان کا لفظ ہے جو ’’فاصلے‘‘ اور ’’احساس‘‘ کا مرکب ہے یعنی دو افراد کے مابین احساسات اور تاثرات کا تبادلہ ٹیلی پیتھی کہلاتا ہے

ماہرین کے مطابق انسان ابھی تک اپنی ذہنی قوت کا دس فیصد حصہ ہی استعمال میں لا سکا ہے 

انسان کی نوے فیصد صلاحیتیں خوابیدہ اور جامد ہیں بعض انسانوں کی یہ صلاحیت پیدائشی طور پر بیدار ہوتی ہے بعض کی کوئی صلاحیت حادثاتی طور پر جاگ جاتی ہیں۔ جو انھیں کروڑوں انسانوں سے منفرد اور ممتاز بنا دیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق انسان کی پوشیدہ اور خوابیدہ صلاحیتوں کو مختلف مشقوں اور محنتوں کے ذریعے سے جگانا پڑتا ہے،

اتنی بڑی قوتیں ہفتوں یا چند مہینوں میں حاصل نہیں کی جاسکتیں ۔۔۔ اس کیلئے ڈیڑھ سے دو سال تک مستقل مزاجی سے ایکسرسائز کرنے کے بعد یہ قوت حاصل ہوتی ہے

اپنے ذہن کی پوشیدہ اور پراسرار  قوتوں کو حاصل کرنے کیلئے جو مشقیں کی جاتی ہیں انہیں یکسوئی یا ارتکاز توجہ کی مشقیں کہتے ہیں۔

اس مفید ترین علم کو سیکھنے کے بعد فرد میں  ایسی صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں جو پہلے موجود توتھیں لیکن ایکٹیو نہیں تھیں اور ان کے استعمال کا علم نہیں تھا۔

اس علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلی شرط یکسوئی یا ارتکاز ہے ۔

یکسوئی کا حامل شخص جب کسی کی طرف اپنا خیال روانہ کرتا ہے تو مطلوبہ شخص ہزاروں لاکھوں میل دور شخص تک پہنچ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن ان قوتوں کو پانے کیلئے ضروری ہے کہ انسان یکسوئی کہ اس درجے پر پہنچ چکا ہو کہ جس کا م کا ارادہ کرے اس میں ایسا غرق ہو کہ اور پھر کچھ نہ سجھائی دے۔

ارتکاز توجہ ذہن کو ایک مرکز پر لانے کا نام ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ دیر تک توجہ ایک نقطہ پر یا ایک خیال پر قائم رہے۔

اگر مستقل مزاجی سے ٹیلی پیتھی پر مہارت حاصلِ کرنے کے لیے ارتکاز توجہ کی مشقیں کی جائین تو ارتکاز توجہ کے ذریعے ذہن کے اندر کی بکھری ہوئی قوتیں جمع ہو کر باہر آ جاتی ہیں۔
روح کے لاشمار عکس، ان گنت قوتیں اس لئے خوابیدہ رہتی ہیں ان مشقوں سے یہ قوتیں ایکٹیو ہو جاتی ہیں۔
جو انسان ٹیلی پیتھی کی مشقیں مکمل کرنے کے بعد اپنے ذہن پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیتا ہے وہ سپر مائنڈ حقیقی معنوں میں سپر جینئس مائنڈ بن جاتا ہے۔

جدید سائنس ان قوتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہتی ہے کہ کمالات انسانی دماغ میں واقع دو غدود پینل گلینڈ اور پچوٹری گلینڈ کے بیدار ہونے سے حاصل ہوجاتے ہیں۔

جبکہ ہمارے اسلاف صدیوں پہلے ان رازوں سے آگاہ تھے جسے جدید سائنس پینل گلینڈ کہتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ قوت ٹیلی پیتھی کا حصول سو فیصد ممکن ہے بشرطیکہ انسان میں مستقل مزاجی اور صبر کا مادہ ہو۔۔۔۔۔

 وہ لوگ جو مائنڈ پاور کو استعمال کرنا جانتے ہیں، جنہوں نے مسلسل پریکٹس سے یہ فن حاصل کر لیا ہے، وہ اس شاہکار سے ایسے ایسے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔

 مائنڈ پاور کی اہمیت جاننے اور تسلیم کرنے والے اب اسے Alternative Medicine کے طور پر بھی استعمال کر رہے ہیں۔

اس علم کے حوالے سے پاکستان میں کوئی کام نہیں ہوا ۔۔۔ اس حوالے سے بھی یہاں ورکشاپس اور سیمینارز ہونے چاہئیں تا کہ ہم بھی قدرت کے اس خزانے کا صحیح استعمال جان سکیں جو انسانی ذہن اور سوچ کی صورت میں قدرت نے ہر انسان کو ودیعت کیا ہے۔

اس موضوع پر مزید معلومات کے لیے ۔۔۔ میری کتاب "ذہن کی پر اسرار قوتیں" کا مطالعہ ضرور کریں یہ کتاب مارکیٹ سے ختم ہو گئی ہے صرف مجھ سے ہی بذریعہ ڈاک کے ذریعے منگوا سکتے ہیں۔