ٹیلی پیتھی قرآن وسنت کی روشنی میں

دین اسلام ایک ایسا دین ہے جو نہ صرف انسانی زندگی کے تمام پہلوئوں پر روشنی ڈالتا ہے بلکہ اس سے جُڑے تمام قدیم و جدیدعلوم و حر مت کے بارے میں بھی رہنمائی کرتا ہے ۔
مثلاََ قدیم قسم کے لوگ اور دور جدید میں بھی بہت سے ا فراد ستاروں کی گردش ان کے طلوع وغروب کے انسانی زندگی پر اثرات کو نہ صرف مانتے ہیں بلکہ ایک علم وضح کیا گیا جو علم نجوم کے نام جا نا جاتا ہے لیکن یہ علم چونکہ خدائی اختیارات کو مخلوق کے حوالے کرتے ہیں جو کہ شرک ہے جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔اس لیے اس کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے اور دوسرا یہ بجائے خود محض ظن وتخمن کا نام ہے جس کے لیے کسی کے پاس دلیل موجود نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں واضح کیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ان الظن لا یغنی من الحق شیئاََََ ۔
کہ گمان کو حق کا کچھ حصہ بھی قرار نہیں دیا جا سکتاچہ جائیکہ اس کو پورا حق سمجھ لیا جائے ۔
اس طرح جادو کا علم ہے تعویز گنڈوں کا علم ہے شریعت نے ان کی حرمت کا واضح اعلان کیا ہے۔اور اس کہ بھی شرک قرار دیا ہے اور ان کو شیطانی کام قرار دیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے
ولکن الشیٰطین کفروا یعلمون الناس السحر (البقرہ)
اور شیاطین نے کفر کیا جو لوگوں کو جادو سیکھاتے تھے ۔اس طرح نبی مکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا۔(مسند احمد)
گویا کہ ایسے تمام علوم جن میں شیاطین سے مدد لی جائے وہ حرام ہیں ۔کچھ علوم ایسے ہیں جن کی طرف شریعت نے رہنمائی کی ہے اور اس کی ترغیب بھی دی ہے مثلاُ علم طب کے بارے سیکھنے کا حکم دیا ہے ۔ارشاد نبوی ﷺہے دوا کا اہتمام کیا کرو اس لیے کہ اللہ نے جو بیماری اتاری ہے اس کی دوا بھی اتاری ہے (مشکوٰۃ)اسی طرح دیگر علوم کے بارے میں احکامات موجود ہیںجن کا ذکر یہاں طوالت کا باعث ہو گا ۔
ان میں سے ایک علم ٹیلی پیتھی بھی ہے بہت کم لوگ اس کی حقیقت سے آشنا ہیں اس لیے اس کے بارے میں مختلف آرا ء پائی جاتی ہیں ۔کچھ لوگ اس کو شیطانی علم قرار دیتے ہیں یہ سب کام شیطانی طاقت سے سرانجام پاتے ہیں کچھ کا کہنا ہے کہ سرے سے اس کی حقیقت ہی نہیں بلکہ یہ محض لوگوں کو دھوکا دینے کا نام ہے اور سب ہاتھ کی صفائی یا نظر بندی کا نام ہے۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ علم ٹیلی پیتھی نہ تو شیطانی طاقت کے استعمال کا نام ہے اور نہ ہی یہ فریب نظر ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی آنکھ میں واقعی اتنی طاقت رکھی ہے کہ اس سے دنیا کی چیزوں کی ماہیت تک تبدیل کی جا سکتی ہے ۔ا س کی دلیل نبی مکرم ﷺکی وہ حدیث ہے جس میں نبی مکرم ﷺنے فرمایا العین حق ۔ آنکھ حق ہے ۔
مشکوٰۃ میں روایت ہے کہ ایک صحابی غسل فرما رہے تھے کہ اسی دوران ایک صحابی نے ان کو نہاتے ہوئے دیکھ لیا اور کہا کہ اس کا بدن کتنا خوبصورت ہے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ وہ صحابی جو نہا رہے تھے وہیں گر گئے اس پر نبی ﷺ نے فرمایا کہ نظر لگ جاتی ہے۔اس طرح ایک حدیث میں نظرسے بچنے کی دعا بھی سیکھائی ہے۔
اعوذ بکلمات اللہ التامات من کل شرشیطان و ھامۃ ومن کل عین لامۃ۔(مشکوٰۃ شریف)
ان احادیث و واقعات سے پتا چلا کہ آنکھ میں اللہ نے وہ صلاحیت رکھی ہے جس سے دوسروں پر اثرانداز ہوا جا سکتا ہے حتیٰ کہ اس سے جان بھی جا سکتی ہے لیکن ایک فرق ہے کہ کچھ لوگوں میں یہ صلاحیت قدرتی ہوتی ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کو یہی صلاحیت مشقوں کے ذریعے حاصل ہو پاتی ہے۔اور آپ نے اس کو باطل قرار نہیں دیابلکہ آپ نے اس کہ حق فرما کر اس کی تصدیق کی ۔
ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح دیگر صلاحیتیں اللہ نے انسان کہ عطا کی ہیں اسی طرح نظر کی صلاحیت بھی ہے اگر آپ اس کو مثبت استعمال کریں گے تو شریعت آپ پر کوئی قدغن نہیں لگاتی لیکن غلط استعمال چاہے اس نظر کی صلاحیت کا ہو یا ہاتھ پائوں کا ، شریعت نے اس سے منع کیا ہے۔
اسی طرح دوسرں تک پیغام پہنچا نا یا ان کے پیغام کو وصول کرنا بغیر آلات کے تو یہ بھی ممکن ہے۔ٹیلی پیتھی کی مشقیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس میں کوئی شیطانی چیزکار فرما نہیں ہوتی محض آپ اپنی دماغی صلاحیت کو طاقت ور کر کے یہ کام کر سکتے ہیں۔جدید سائنس کا کہنا ہے کہ انسان جب کچھ سوچتا ہے اس کے حرام مغز سے لہریں نکلتی ہیں ۔
جس طرح انسان کے بنائے ہوئے آلات میں سے لہریں نکلتی ہیں اور جہاں پر ویسا ہی آلہ ہو وہ ان لہروں کہ کیچ کرلیتا ہے پھر ان لہرں کو سنا اور پڑھابھی جا سکتاہے حتیٰ کہ دیکھا بھی جا سکتا ہے۔ اسی طرح انسانی ذہن سے نکلنے والی لہروں کو بھی مخصوس مشقوں کے ذریعے دوسرے ذہنوں تک پہنچا کر mind to mind link کیا جا سکتا ہے جو آلات انسانی ذہن کی ایجاد ہیںاگر ان سے نکلنے والی شعاعوں کے دوش پر پیغام رسانی کے کام سر انجام دیے جا سکتے ہیں تو احسن التقویم پیدا ہونے والا انسان اپنے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کیوں نہیں کر سکتا۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کی سوچ یا دل کے حالات نہیں جانے جا سکتے ،یہ غیب کی بات ہے تواس کا جواب یہ ہے کہ دل کی بات غیب نہیں ہوتی آپ جو سوچتے ہیں وہ غیب نہیں کہلا سکتا کیونکہ غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ارشاد باری تعا لیٰ ہے وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الا ھو۔( الا نعام آیت نمبر ۵۹)
قرآن حکیم میں جنوں کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
لو یعلمون الغیب ما لبثوافی العذاب المھین
(سورۃ سبا آیت نمبر ۱۴)
اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس عذاب میں گرفتار نہ ہوتے ۔
یہ علم محض دوسرں تک پیغام رسانی کا نام نہیں بلکہ انسان خود اپنی دیگر صلاحیتوں کو اس علم کے ذریعے اجاگر کر سکتا ہے اور یہ بات مسلم ہے کہ دماغ پیغام کوپورے وجودتک پہنچاتا ہے حتیٰ کہ اگر دماغ پیغام رسانی کا کام چھوڑ دے تو انسان کا وجود حرکت نہیں کر سکتا ۔
اس ساری گفتگو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ علم (ٹیلی پیتھی )کوئی جادو نہیں ہے نہ شیطانی ہے اور نہ اس میں شرک ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کے پاس کوئی علم ہو جس سے وہ دوسروں کو فائدہ پہنچا سکے تو وہ ایسا کرے لیکن اس میں شرک شامل نہ ہونا چاہیے ۔ اس لیے اس علم کو صحیح استعمال میں لانے میں شرعی طور پر کچھ حرج نہیں اور یہ بھی کہ یہ علم محض اٹکل پچواور توہم پرستی کا نام نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ایک سائنسی علم ہے ۔ مزید تسلی کے لیے آپ اس کتاب کا مطالعہ غور سے کریں اور اس میں دی گئی مشقیں پڑھیں آپ کواس میں کہیں بھی شرک نظر نہیں آئے گا ۔

محمد یونس بٹ حافظ
چیئرمین ادارہ الاصلاح شاہدرہ
0307-4538726
younusbutt1@gmail.com

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *